ملکی سیاسی صورتحال اور مہنگائی

(تحریر میاں افتخار رامے)
ویک اینڈ پر میں نے خانیوال جانے کا فیصلہ کیا ۔ میں لاہور سے خانیوال کے لے فیصل مورز کی بس میں بیٹھا تھا تو تھوڑی دیر بعد ایک 50 سالہ شخص میرے ساتھ والی سیٹ پر براجمان ہوگیا۔ چند منٹوں بعد بس خانیوال کے لیے روانہ ہوئی تو ساتھی مسافرنےاچانک مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا سر میں نے آپ کو پہچان لیا ہےآپ کا سوشل میڈیا پرتجزیہ اور تبصرہ بڑا جاندار ہوتا ہے۔ آپ کے بلاگ کا تو مجھے خصوصی انتظار ہوتا ہے آپ ایک دبنگ لکھاری ہیں اور آپ کے آرٹیکل میں عوامی رنگ ہوتا ہے۔ وہ بنا بریک بولتا ہی جارہا تھا میں خاموشی سے اس کی باتوں کو انجوائے کررہا تھا۔ چند سیکنڈ کی خاموشی کےبعد اس نے دھیمے اور مایوس لہجے میں پوچھا کہ سر آپ ملکی حالات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ آپ کے خیال میں الیکشن ہوں گے یا ملتوی کردیئے جائیں گے۔ یہ ایسا سوال تھا جس نے مجھے بولنے پر مجبور کردیا کیونکے حکومت کی جانب سے جس طرح کے حالات پیدا کئے جارہے ہیں لگتا نہیں کے الیکشن ہوں گے۔ تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن کی جانب سے الیکشن شیڈول کے بعد لاہور میں ریلی نکالنے کا فیصلہ کیا تو حکومت کی جانب سے جو مزاحمت سامنے آئی اس سے یہ واضع ہوگیا ہے کہ حکومت نہیں چاہتی کہ ملک میں انتخابات کا انعقاد ہو۔ لیکن اللہ پاکستان کی عدالتوں کا وقار بلند رکھےانہوں نے الیکشن کروانے کا حکم دے کر اگر آئین کی پاسداری کو اتنی اہمیت دی ہے اور نظریہ ضرورت جیسی غلطیوں کو خراج دینے کا اردارہ کرلیا ہے توامید ہے وہ آیندہ بھی کسی قسم کا دباؤ قبول نہیں کریں گی اورہرطرح کا دباؤ مسترد کرکے الیکشن کا انعقاد ضرور کروائے گی۔ چاہے وہ دباؤ ڈالنے والے مہنگے بوٹوں میں ہی ملبوس کیوں نہ ہوں۔ کیونکےعدالتیں کسی بھی شخص یا ادارے کی ترجمانی کا کام نہیں کرتیں۔ ان کا کام صرف آئین اور قانون کی تشریح ہے۔

عمران خان کو وزیر اعظم ہاﺅس سے نکلے تقریبا 11 ماہ ہوچکے ہیں۔ ان پر سیکڑوں ایف آئی آر درج ہیں اور متعدد مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ اتنے عرصے میں عمران خان کا خود کو جیل اور موت سے بچانا ان کی سب سے بڑی کامیابی ہے کیونکہ پاکستان میں وزراء اعظم کو وزیراعظم ہاﺅس سے نکلتے ہی ان دونوں چیزوں میں ایک لازمی ملتی ہے۔ آپ ذوالفقار بھٹو، بینظیر بھٹو یا نوازشریف کا حال دیکھ لیں۔ فی الحال نوازشریف خوش قسمت ہیں جو زندہ و جاوید ہیں لیکن ہم نے ذوالفقار بھٹو اور بینظیر بھٹو کے ساتھ کیا کیا وہ بھی سب کے سامنے ہے۔

ملک میں اس وقت ایک عجیب وغریب محاذ آرائی چل رہی ہے۔ حکومت ہو،اپوزیشن یا ادارے ہوں سب کے درمیان عجیب کشمکش جاری ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ اس رسہ کشی میں نقصان پاکستان کا اور 21 کروڑ غریب، متوسط اور مڈل کلاس طبقے کا ہو رہا ہے۔ اسوقت صرف 1 کروڑ ایلیٹ کلاس مزے میں ہے جن کو مہنگائی، بیروزگاری اور حزب اقتدار اور حزب اختلاف کی لڑائی سے کوئی لینا دینا نہیں، گھی کا ایک کلو کا پیکٹ 680 تک پہنچ گیا ہے، مرغی کا گوشت 640 روپے کلو فروخت ہو رہا اور چنے بےکی دال 330 روپے کلو ہوگئی ہے لیکن کسی کو کوئی فرق نہیں پڑ رہا، پس صرف عام آدمی رہا ہے جس کو ہر روز گھر پہنچنے سے قبل اپنے بچوں کی روٹی کی فکر ہوتی ہےمہنگائی کے سیلاب نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے ،

ملکی حالات ، معیشت کی بدحالی اور سیاسی عدم استحکام کا خمیازہ آج غریب طبقہ سب سے زیادہ بھگت رہا ہے ۔ کرسی کرسی اور انا کی جنگ میں نقصان مملکت اور عام آدمی کا ہو رہا ہے۔سابقہ حکومت بھی سیاسی انتقام سے آگے نہ جا سکی تھی اور موجودہ حکومت بھی انتقام سے آگے نہیں جارہی ۔ غریب کے نام پر سیاست کرنے والے غریب کیلئے کب پالیساں بنائیں گے ؟

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More